اسلام، قومیت اور وطنیت

کچھ دنوں سے قومیت کی ایک بحث نظر آ رہی ہے میرا ان سب حضرات سے سوال ہے؟
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو ، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

جو مسلمان بدر میں کفار کے لشکر کے ساتھ آئے اور انکی تعداد بڑھانے کا باعث بنے انکے لیے اس آیت کا نزول ہوا
4 : سورة النساء
آیت: 97

ترجمہ :

جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا ۔ ( ٦٢ ) اور اسی حالت میں فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے تو بولے : تم کس حالت میں تھے ؟ وہ کہنے لگے کہ : ہم تو زمین میں بے بس بنا دیئے گئے تھے ۔ فرشتوں نے کہا : کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے؟ لہذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے ، اور وہ نہایت برا انجام ہے۔

جو لوگ را، موساد اور سی آئی اے وغیرہ کے ہاتھوں کھلونا بن کر قومیت کے نام پر ایک اسلامی ریاست بلکہ دور حاضر کی واحد ریاست جو اسلام کے نام پر بنی اور جس کا نظریہ اسلام ہے اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں کیا وہ بھی ان جیسا ہی نہیں کر رہے جو لشکر کفار کے ساتھ ان کی تعداد بڑھانے کو آگئے تھے؟ 
بلکہ جو مسلمانوں کے ساتھ بھی آئے مگر اسلام کے بجائے قوم کیلئے آئے وہ بھی دوزخی کہلائے۔
قزمان نامی شخص ایک غزوہ میں پیش پیش تھا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکو دوزخی قرار دیا، تحقیق سے معلوم ہوا وہ شخص اسلام کیلئے نہیں قوم کیلئے لڑ رہا تھا۔

اور جو لوگ ان قوم پرستوں کو اسلام کے بجائے وطنیت پرستی(اسلامی پاکستان کے بجائے لبرل پاکستان کے خواہاں افراد) سے جواب دیتے ہیں انکے لیے بھی اقبال کا ایک شعر پیش کرتا ہوں

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے 
جو پیرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے

قوموں کی تاریخ ہزاروں سالوں کی ہے جبکہ وطن کی ایک دو صدی کی، آپ وطن پرستی سے قوم پرستی کا مقابلہ کیسے کر پاؤ گے؟

لوٹ آؤ اپنی اصل کی طرف اپنے دین کی طرف جو ہم سب کو ایک کرتا ہے جب تک ہم اپنی اصل کی طرف نہیں لوٹیں گے ہم آگے نہیں بڑھ پائیں گے یوں ہی قوم پرستی اور وطن پرستی میں بٹے رہیں گے۔

جو لوگ پاکستان کے نام پر وطن پرستی(لبرل پاکستان کے خواہاں) میں مبتلا ہیں انکو بتانا چاہوں گا کہ پاکستان کی اصل بھی اسلام ہے یہ اسلام کہ نام پر بنا اور لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا جسکی بنیاد دو قومی نظریہ ہے اور جس کا مقصد ایک اسلامی ملک کا حصول تھا مگر افسوس ہم نے یہ ملک حاصل تو کر لیا مگر اسکی اسلام کے مطابق تعمیر نہیں کر پائے۔ میرے مسلمان بھائیوں آؤ اور فرقہ واریت سے نکل کر مل کر اس اسلامی مملکت خداداد پاکستان کو اسلام کے مطابق بناتے ہیں۔

3: سورة آل عمران 103

ترجمہ :

اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو ، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو ، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے ، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے ، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی ۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے ، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ ۔

آئیے مل کر قائداعظم کی خواہش کے مطابق پاکستان کو اسلام کی عملی تجربہ گاہ بناتے ہیں، جو اقبال کا خواب تھا، جسکے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے جانیں قربان کر دیں۔ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور جسکی بنیادوں میں اسلام کے نام پر خون شامل ہو، وہاں صرف ایک ہی نظام چل پائے گا اور وہ ہے اسلام کا نظام!

غبار آلودئہ رنگ ونسب ہیں بال و پر تیرے 
تو اے مرغ حرم! اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے میم کے دائرے کے اندر آجاؤ اسی میں تمھاری بقا ہے، نہیں تو خود پر ظلم کرنے والوں میں شمار ہوگے، لوٹ آؤ اپنی اصل کی طرف اس سے پہلے کہ واپس اللہ کی طرف لوٹ جاؤ!

اپنا تبصرہ بھیجیں